بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پیڈوفائل امریکی صدر نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر ایران امریکہ کی مبینہ منصفانہ اور معقول تجویز قبول نہ کرے تو ایران کے بجلی گھر اور پل تباہ ہوجائیں گے!
گوکہ آبنائے ہرمز کا محاصرہ دہشت گرد امریکی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی کا الزام لگایا!
اس نے مذاکرات کے بارے میں لکھا: میرے نمائندے کل شام مذاکرات کے لئے اسلام آباد میں ہونگے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا ہے، عجیب ہے کیونکہ ہمارے محاصرے نے اسے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ انہیں اس راستے کی بندش سے روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ امریکہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔ بہت سارے جہاز تیل بھرنے کے لئے ٹیکساس، لوئیزیانا اور آلاسکا کی طرف جارہے ہیں!"
نیتن یاہو کے جرائم پیشہ گینگ کے ساتھ مل کر حالیہ تین برسوں میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینیوں، لبنانیوں، ایرانیوں، شامیوں، عراقیوں اور یمنیوں کے قتل عام میں شریک ملک کا صدر، اس شرمناک پیغام میں لکھتا ہے: "ایران کی قتل مشینری کو رک جانا چاہئے۔" حالانکہ ٹرمپ نے جنگ کے پہلے دن رہبر انقلاب اسلامی کو شہید کر دیا، میناب پرائمری اسکول پر حملہ کرکے سینکڑوں بچوں، بچیوں اور استانیوں کو شہید کردیا، یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز، ریفائنریوں اور بجلی گھروں پر حملے کئے جن کا براہ راست تعلق عوام سے ہے اور اسی وقت ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرکے اجتماعی قتل کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
ٹرمپ دھونس دھمکیوں کے ذریعے ایران کو اسلام آباد مذاکرات میں شرکت پر مجبور کرنا چاہتا تھا لیکن ایران نے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت سے انکار کر دیا اور مذاکرات کو دھونس دھمکیوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کے مکمل خاتمے اور بے جا مطالبات میز سے اٹھانے سے مشروط کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ